Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

بریکنگ نیوز

latest

پنجشیر میں افغان طالبان اور مزاحمتی فورس میں لڑائی، متعدد جنگجو ہلاک

 پنجشیر میں افغان طالبان اور مزاحمتی فورس میں لڑائی، متعدد جنگجو ہلاک پنجشیر میں افغان طالبان اور مزاحمتی فورس میں لڑائی، متعدد جنگجو ہلاک ا...

 پنجشیر میں افغان طالبان اور مزاحمتی فورس میں لڑائی، متعدد جنگجو ہلاک

پنجشیر میں افغان طالبان اور مزاحمتی فورس میں لڑائی، متعدد جنگجو ہلاک


افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد وادی پنجشیر میں افغان طالبان اور مخالف اتحاد کے جنگجوؤں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ دونوں طرف ہلاکتوں اور زخمیوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

گیارہ ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد افغانستان پر چڑھائی کے 20 برس بعد آخری امریکی فوجی بھی افغانستان سے روانہ ہوگیا، جس کے باعث کابل کی گلیاں خوشی میں کی گئی ہوائی فائرنگ سے گونج اٹھیں۔

امریکی فوج نے کابل سے باہر نکلنے کی آخری پرواز پر سوار ہونے والے آخری امریکی فوجی کی نائٹ ویژن آپٹکس کے ساتھ لی گئی تصویر شیئر کی جو 82ویں ایئربورن ڈویژن کے میجر جنرل کرس ڈونا تھے۔

انخلا کے عمل کے دوران خودکش بم دھماکوں سے 180 سے زائد افغان باشندے اور امریکی سروسز کے 13 اہل کاروں کی جانیں ضائع ہوئیں جن میں سے کچھ کی عمریں اس جنگ کی طوالت سے کچھ ہی زیادہ تھیں۔


برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پیر اور منگل کو طالبان اور انکے مخالف اتحاد کے جنگجوؤں کے درمیان وادی پنجشیر میں جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں سات افراد ہلاک اور کچھ زخمی ہوئے ہیں۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق پنجشیر وہ واحد صوبہ ہے جو افغانستان میں طالبان کے کنٹرول میں نہیں ہے۔

طالبان کے خلاف اتحاد کے ترجمان فہیم دستی نے کہا ہے کہ وادی کے مغربی داخلی راستے پر طالبان نے ان کے مقامات پر حملہ کیا۔ ممکن ہے طالبان اس حملے سے اتحاد کی دفاع کی صلاحیت دیکھنا چاہتے تھے۔

فہیم دستی نے دعویٰ کیا کہ ان جھڑپوں میں متعدد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ طالبان نے تاحال اس پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔


غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغانستان میں 20 سالہ امریکی مشن ختم ہو گیا، انکل سام کا ملک دودہائیوں بعد افغانستان سے نکل گیا، رات کی تار یکی میں آخری فوجی بھی کابل سے روانہ ہو گئے، 17 روز میں تاریخ کا سب سے بڑا شہری انخلا ہو گیا۔

20 سالہ جنگ کے دوران 47 ہزار 245 افغان شہری مارے گئے، طالبان اور دیگر جنگجو گروپوں کے 51 ہزار سے زائد افراد مارے گئے،امریکا کے 2461 فوجی اور 3846کنٹریکٹر ہلاک ہوئے، نیٹو افواج 1 ہزار 140 اہلکاروں سے محروم ہوئے۔

مالی نقصان کی بات کی جائے تو افغانستان میں امریکا کو دو ٹریلین سے زائد ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ 


امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل فرینک میک کینزی نے نیوز بریفنگ کے دوران افغانستان سے انخلا کے عمل کے مکمل ہونے کا اعلان کیا اور بتایا کہ کابل ایئرپورٹ سے امریکا کے آخری طیارے نے واشنگٹن کے وقت کے مطابق سہ پہر تین بج کر 29 منٹ پر پرواز کی یعنی کابل میں آدھی رات سے ایک منٹ پہلے۔

جنرل میک کینزی نے افغان جنگ سے متعلق کہا کہ یہ وہ مشن تھا جس میں اسامہ بن لادن سمیت القاعدہ کے دیگر کئی افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا گیا۔


 


حکام کا کہنا ہے کہ امریکی فوج نے یہ یقینی بنایا ہے کہ وہ انخلا سے قبل کابل ایئرپورٹ پر چھوڑ جانے والے جہاز اور مسلح گاڑیوں کو ناکارہ بنا جائے۔

مشن کمانڈر جنرل کینتھ میکنزی کا کہنا تھا کہ فوجی دستوں نے 73 طیاروں اور ستر مسلح گاڑیوں اور 27 ہموی گاڑیوں کو ’غیر مسلح اور ناکارہ‘ بنایا تاکہ طالبان انھیں استعمال نہ کر سکیں۔ یہ طیارے دوبارہ کبھی اڑ نہیں سکیں گے، انھیں کبھی کوئی اور استعمال نہیں کر سکتا۔

لاس اینجلس ٹائمز کے ایک رپورٹر کی جانب سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طالبان کابل ایئرپورٹ کے ایک ہنگر میں داخل ہو کر امریکی طیارے کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔ امریکہ نے ایئرپورٹ پر رہ جانے والی ایک ہائی ٹیک راکٹ دفاعی نظام کو بھی ناکارہ بنایا ہے۔


افغانستان میں امریکی انخلا کی تکمیل کے بعد کابل میں اپنا رد عمل دیتے ہوئے شہری نے کہا ہے میں کہنا چاہتا ہوں کہ ہم اپنی سرزمین پر ایک دوسرے ملک کو دیکھنا نہیں چاہتے۔ ہم خوش ہیں کہ سکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے لیکن ہمیں روٹی اور پانی چاہیے۔

ایک شہری نے کہا کہ طالبان حکومت سے ہماری توقع ہوگی کہ بینکوں کو کھولا جائے، سرکاری ملازمین کو کام پر جانے دیا جائے کیونکہ ہمارے لیے پیسہ اہم ہے۔ میں پچھلے 17 سے 18 دنوں تک بے روزگار ہوں اور گھر پر بیٹھا ہوں۔ اور یہ آسان نہیں کیونکہ مجھے کرایہ، بجلی کا بل اور دیگر اخراجات اٹھانے ہیں۔

 

امریکی صدر بائیڈن نے کہا ہے کہ 17 روز میں تاریخ کا سب سے بڑا شہری انخلا کرایا، 31 اگست کی تاریخ میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ متفقہ تھا، زندگیاں بچانے کے لیے ڈیڈ لائن میں توسیع نہ دینا بہتر تھا۔

امریکی صدر بائیڈن نے اپنے بیان میں کہا کہ اب ہماری افغانستان سے 20 سالہ موجودگی ختم ہوگئی ہے، وہ افغانستان میں خدمات انجام دینے والے کمانڈزر اور فوجیوں کا شکریہ ادار کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انخلا کی 31 اگست کی تاریخ میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ متفہ تھا، زندگیاں بچانے کے لیے ڈیڈ لائن میں توسیع نہ دینا بہتر تھا۔ 


طالبان رہنما انس حقانی نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ افغانستان پر امریکی اور نیٹو فورسز کا 20 سالہ قبضے کا خاتمہ ہوگیا، ہم نے افغانستان میں ایک بار پھر تاریخ رقم کی ہے۔


افغانستان سے امریکی افواج کے 20 سال بعد مکمل انخلا کے بعد طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے قومی اتحاد کا مطالبہ کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ ہمیں اپنے اختلافات بھول کر متحد ہونا ہوگا۔ عالمی برادری ملک کی حمایت نہیں کرے گی اگر لوگ متحدہ نہیں ہوں گے۔

کابل ایئر پورٹ پر صحافیوں سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ وہ باضابطہ طور پر امریکی اور بیرونی افواج سے آزادی کا اعلان کررہے ہیں۔ امریکا سمیت تمام ملکوں سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔

ذبیح اللہ مجاہد کئی دیگر طالبان رہنماوں کے ساتھ ائیرپورٹ میں داخل ہوئے تو طالبان کے خصوصی سکیورٹی ’بدری 313‘ دستے نے اُن کا استقبال کیا اور ایئر پورٹ کے اندر داخل ہوئے۔

ایئرپورٹ داخل ہونے کے بعد اُنہیں خاص طور ایئرپورٹ کے اُس حصے میں لے جایا گیا جو گذشتہ رات تک امریکہ کے زیر کنٹرول تھا۔ اگرچہ ذبیح اللہ مجاہد اور دیگر طالبان رہنما پہلے تو پیدل اُس طرف روانہ ہوئے لیکن بعد میں اُنہیں بتایا گیا کہ وہ جگہ تین یا چار کلومیٹر دور ہے، جس کے بعد ذبیح اللہ مجاہد اور تین دیگر طالبان رہنما ایک گاڑی میں بیٹھے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر موجود طالبان کے سکیورٹی دستوں سے بھی مختصراً خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغان عوام کا خیال رکھیں گے کیونکہ افغان عوام نے گذشتہ بیس سال بہت ظلم اور تکلیفیں جھیلیں ہیں۔ آپ سب کو پہلے تو مبارکباد دیتا ہوں اور یقین دلانا چاہتا ہوں کہ یہ آزادی ہمیں آپ جیسے مجاہدوں، ہمارے فدائی نوجوانوں اور مخلص لیڈرشپ کی وجہ سے ملی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ سے گزارش ہے کہ عوام کو تنگ نہ کریں کیونکہ ہماری عوام نے بیس سال سخت مشکل میں گزارے ہیں۔ ہم اُن پر مسلط نہیں ہوئے ہیں بلکہ اس عوام کے خادم ہیں۔


لامتی کونسل نے افغانستان سے غیرملکیوں کے انخلا کے لیے طالبان پر دباؤ کی قراردار پاس کر لی، چین اور روس نے کہا ہے کہ قرارداد غیر منظم روانگی سے توجہ ہٹانے کے مترادف ہے۔

اقوام متحدہ کی منقسم سلامتی کونسل نے پیر کے دن طالبان پر زور دیا کہ امریکہ کے فوجی انخلا کے بعد وہ لوگوں کو افغانستان سے باہر جانے کی اجازت دینے کا عہد پورا کریں۔ چین اور روس نے یہ کہتے ہوئے قراردار کی حمایت کرنے سے انکار کیا کہ یہ بات امریکہ کی جانب سے غیر منظم روانگی کے الزام سے دھیان ہٹانے کے مترادف ہے۔

روس اور چین ووٹنگ کے دوران غیر حاضر رہے تاہم انھوں نے اس اقدام کو ویٹو نہیں کیا۔


قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بھارتی سفیر کی طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ محمد عباس ستانکزئی سے ملاقات ہوئی ہے۔ دونوں فریقین میں افغانستان میں پھنسے بھارتی شہریوں کی بحفاظت اور جلد واپسی پر بات ہوئی ہے۔

میتل نے طالبان کو بھارت کی اس تشویش سے باور کرایا کہ افغان سرزمین بھارت مخالف یا دہشتگردی کی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

طالبان کے نمائندے نے بھارتی سفیر کو یقین دہانی کرائی کہ ان مسائل کو مثبت انداز میں حل کیا جائے گا۔


انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کابل ایئرپورٹ کے قریب ڈرون حملے پر معتبر اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

بی بی سی کے مطابق کابل کے ایک خاندان نے ڈرون حملے میں اس کے چھ بچوں سمیت 10 افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر پال او برائن نے کہا ہے کہ امریکا پر ذمہ عائد ہے کہ اس خاندان کے افراد کے نام بتائیں جو ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے ہیں، اقدامات کا اعتراف کریں اور متاثرین کو معاوضہ دیں۔ دو دہائیوں تک امریکا نے بغیر کسی احتساب ڈرون حملے کیے ہیں اور افغانستان اور دیگر ممالک میں امریکی اقدامات سے کئی عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔


برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے ترجمان نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ابھی قبل از وقت ہے کہ نام نہاد دولت اسلامیہ کے خاتمے کے لیے برطانیہ طالبان کی حکومت کے ساتھ کیسے اور کب کام کرے گی۔ اس کا تعین ان وعدوں کی تکمیل پر ہوگا جو طالبان نے انسانی حقوق کے حوالے سے کیے ہیں۔ اس مرحلے پر یہ فیصلہ قبل از وقت ہے کہ آیا ہم طالبان کے ساتھ آگے کام کریں گے اور کیسے۔ اس کا انحصار اب سے ہونے والے اقدامات پر ہوگا۔ ہم نے پہلے بھی کہا ہے کہ ہم ان پر دباؤ ڈالیں گے کہ ان معیاروں اور دعوؤں پر پورا اتریں۔


امریکی وزریر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ امریکا نے کابل میں سفارتی مشن معطل کر دیا، نئی افغان حکومت سے تعلقات امریکی مفاد سامنے رکھ کر قائم کریں گے، دہشت گردی کے شدید خطرات کے باوجود شہری انخلا مکمل کیا گیا۔

کابل سے امریکی انخلا کے بعد امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ انخلا امریکہ کی تاریخ کا سب سے مشکل عمل تھا، 100 سے 200 امریکی تاحال افغانستان موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے کابل میں اپنا سفارتی مشن معطل کر دیا، لیکن اسے دوحہ منتقل کر دیا گیا ہے، ہم طالبان سے شہریوں کی محفوظ منتقلی کے وعدے کی پاسداری کروائیں گے۔

انٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ اب افغانستان میں ملٹری مشن ختم اور سفارتی مشن کا آغاز ہو چکا ہے، قطر اور ترکی کی خدمات کو سراہتے ہیں اور خطے میں دہشتگردی پر گہری نظر رکھیں گے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل میکنزی نے انخلا کے آپریشن کو تاریخی کامیابی قرار دے دیا۔ ان کا کہنا تھا جو شہری رہ گئے ہیں انہیں افغانستان سے نکالا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا انخلا کے مکمل ہونے کا عمل خفیہ رکھا گیا تھا، طالبان نے آخری وقت میں انخلا میں مکمل تعاون کیا، کابل سے ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد کو نکالا۔

 

افغان حکام نے نوٹم جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کابل کی فضائی حدود بغیر ایئرٹریفک کنٹرول کے ہے، کابل آنے اور جانے والی پروازیں انتہائی احتیاطی اقدامات کریں۔

افغان حکام کی جانب سے جاری نوٹم میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی فوج نے کابل ائیرپورٹ پر ائیر ٹریفک کنٹرول پر خدمات فراہم کرنا بند کر دی ہیں جس کی وجہ سے افغانستان کی فضائی حدود میں ایئرٹریفک کنٹرول اورایئرپورٹ سروسز دستیاب نہیں ہیں۔

نوٹم کے مطابق ممکنہ طور پر افغانستان سے نکلنے والا آخری امریکی ٹرانسپورٹ طیارہ تھا، کابل آنے اور جانے والی پروازیں انتہائی احتیاطی اقدمات کریں۔