Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

اہم خبریں

latest

دیارِ غیر میں دھڑکتا ایک پاکستانی دل، شہزاد گل خاں کی وطن سے محبت

  دنیا کے مختلف ممالک میں لاکھوں پاکستانی اپنے روزگار اور بہتر مستقبل کی تلاش میں مقیم ہیں۔ مگر ان سب کے دلوں میں اپنے وطن پاکستان کی محبت ک...

 


دنیا کے مختلف ممالک میں لاکھوں پاکستانی اپنے روزگار اور بہتر مستقبل کی تلاش میں مقیم ہیں۔ مگر ان سب کے دلوں میں اپنے وطن پاکستان کی محبت کسی نہ کسی صورت میں زندہ رہتی ہے۔ کچھ لوگ بیرونِ ملک جا کر صرف اپنی زندگی سنوارنے تک محدود ہو جاتے ہیں، لیکن کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہزاروں میل دور رہ کر بھی اپنے وطن کی ترقی، خوشحالی اور عزت کے لیے سوچتے اور کام کرتے رہتے ہیں۔ ایسے ہی محبِ وطن پاکستانیوں میں ایک نام شہزاد گل خاں کا بھی ہے، جو گزشتہ 30 برسوں سے انڈونیشیا میں مقیم ہیں، مگر ان کا دل آج بھی پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے۔

شہزاد گل خاں ان پاکستانیوں میں شامل ہیں جو بیرونِ ملک رہ کر بھی اپنے وطن کے مسائل کو محسوس کرتے ہیں اور ان کے حل کے لیے سنجیدگی سے سوچتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر ہر بیرونِ ملک پاکستانی اپنے وطن کے لیے کچھ نہ کچھ کرنے کا عزم کر لے تو پاکستان کی تقدیر بدل سکتی ہے۔

انڈونیشیا میں طویل عرصے سے رہائش کے باعث شہزاد گل خاں کو وہاں کی مارکیٹ، تجارت اور معاشی مواقع کا گہرا تجربہ حاصل ہو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اکثر پاکستان کے کسانوں اور زمینداروں کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان زرعی ملک ہے مگر بدقسمتی سے ہمارے کسان اپنی محنت کا پورا معاوضہ حاصل نہیں کر پاتے۔ فصلیں تیار ہونے کے باوجود مناسب قیمت نہ ملنے کی وجہ سے کسان شدید پریشانی اور معاشی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔

شہزاد گل خاں کا خیال ہے کہ اگر پاکستانی کسانوں اور زمینداروں کی پیداوار کو عالمی منڈیوں تک پہنچایا جائے تو نہ صرف کسان خوشحال ہوں گے بلکہ ملک کی معیشت بھی مضبوط ہو گی۔ وہ خصوصی طور پر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ پاکستان کی زرعی اجناس کو انڈونیشیا جیسے بڑے ملک میں برآمد کرنے کے مواقع موجود ہیں۔ اگر حکومت اور تاجر برادری سنجیدگی سے اس سمت میں قدم اٹھائیں تو پاکستانی چاول، گندم، پھل اور دیگر زرعی اجناس انڈونیشیا کی بڑی منڈی میں جگہ بنا سکتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس سے پاکستان کے کسانوں کو مناسب قیمت ملے گی، زراعت کو فروغ ملے گا اور ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل ہو گا۔ شہزاد گل خاں ہمیشہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ پاکستان کی اصل طاقت اس کے محنتی لوگ اور زرخیز زمین ہے، ضرورت صرف درست منصوبہ بندی اور دیانت دار قیادت کی ہے۔

وطن سے محبت کا جذبہ صرف معیشت تک محدود نہیں بلکہ شہزاد گل خاں کے دل میں پاکستان اور پاک فوج کے لیے بھی بے پناہ احترام پایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاک فوج ملک کی سلامتی اور استحکام کی ضامن ہے اور ہر پاکستانی کو اپنی فوج پر فخر ہونا چاہیے۔ وہ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ قوم کو اپنے اداروں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تاکہ پاکستان ترقی اور استحکام کی راہ پر گامزن رہ سکے۔

اس کے ساتھ ساتھ شہزاد گل خاں کی ایک بڑی خواہش یہ بھی ہے کہ پاکستان کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو بہتر روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ وہ اس مقصد کے لیے کوشش کرتے ہیں کہ پاکستانی نوجوانوں کو انڈونیشیا میں نوکریوں اور کاروبار کے مواقع کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر نوجوانوں کو بیرونِ ملک باعزت روزگار کے مواقع ملیں تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ پاکستان کے لیے قیمتی زرمبادلہ بھی بھیج سکتے ہیں۔

شہزاد گل خاں کے یہ خیالات اور جذبات انہوں نے نور نظر میڈیا گروپ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اظہار کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا قوم کی رہنمائی میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور ایسے مسائل کو اجاگر کرنا ضروری ہے جو ملک کی ترقی اور عوام کی خوشحالی سے جڑے ہوں۔

حقیقت یہ ہے کہ شہزاد گل خاں جیسے محبِ وطن پاکستانی اس بات کی روشن مثال ہیں کہ وطن سے محبت صرف سرزمین پر رہنے کا نام نہیں بلکہ دل میں بسنے والے جذبے کا نام ہے۔ جو لوگ اپنے ملک کے لیے اچھا سوچتے ہیں، اس کی ترقی کے خواب دیکھتے ہیں اور جہاں بھی ہوں پاکستان کی بہتری کے لیے آواز بلند کرتے ہیں، وہی اصل معنوں میں سچے محبِ وطن ہوتے ہیں۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے مثبت اور تعمیری خیالات کو فروغ دیا جائے، تاکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے تجربات اور سوچ کو ملک کی ترقی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ اگر حکومت، کاروباری طبقہ اور نوجوان مل کر آگے بڑھیں تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان معاشی طور پر مضبوط اور خوشحال ملک بن کر دنیا میں اپنا مقام مزید بلند کرے گا۔ اور شاید یہی خواب شہزاد گل خاں جیسے لاکھوں پاکستانیوں کے دلوں میں دھڑکتا ہے ایک مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان