ہڑپہ (خصوصی رپورٹ)عالمی شہرت یافتہ آثارِ قدیمہ کے مرکز ہڑپہ میوزیم کے بالکل سامنے پنجاب پولیس کی ایلیٹ فورس کے تین اہلکاروں کی جانب سے مبینہ...
ہڑپہ (خصوصی رپورٹ)عالمی شہرت یافتہ آثارِ قدیمہ کے مرکز ہڑپہ میوزیم کے بالکل سامنے پنجاب پولیس کی ایلیٹ فورس کے تین اہلکاروں کی جانب سے مبینہ طور پر غیر قانونی ناکہ لگا کر سیاحوں اور راہگیروں سے پیسے بٹورنے اور انہیں ہراساں کرنے کا سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے، جس نے نہ صرف پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے بلکہ تھانہ ہڑپہ کے ایس ایچ او رانا آصف سرور کی نگرانی پر بھی شدید تحفظات پیدا کر دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ ناکہ تھانہ ہڑپہ سے چند فرلانگ کے فاصلے پر لگایا گیا تھا جہاں ایلیٹ فورس کے اہلکار علی حیدر، اعظم خان اور احمد ڈوگر مبینہ طور پر سادہ لباس میں موجود تھے۔ ان کی گاڑی پر نہ تو نمبر پلیٹ آویزاں تھی اور نہ ہی اہلکاروں کی جیکٹس پر نیم پلیٹس لگی ہوئی تھیں، جبکہ تینوں نے باقاعدہ یونیفارم بھی پہننے سے گریز کر رکھا تھا تاکہ اپنی شناخت مخفی رکھی جا سکے۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ اہلکار میوزیم آنے والے سیاحوں اور سادہ لوح دیہاتیوں کو روک کر ان سے بلاجواز پوچھ گچھ کرتے اور براہِ راست پیسوں کا مطالبہ کرتے تھے۔ ایک شہری نے بتایا۔
"ہم جب ہڑپہ میوزیم دیکھنے آئے تو سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں نے ہمیں روک لیا، گاڑی پر نمبر نہیں تھا اور انہوں نے پیسے مانگے۔ جب ہم نے احتجاج کیا تو ہمیں دھمکیاں دی گئیں۔"
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ان اہلکاروں نے اپنے افسران بالا اور ایس ایچ او ہڑپہ کو یہ اطلاع دی کہ ناکے پر چار اہلکار تعینات ہیں، جبکہ حقیقت میں صرف تین اہلکار موجود تھے۔ مبینہ طور پر یہ غلط بیانی اس لیے کی گئی تاکہ کسی ممکنہ تفتیش یا کارروائی سے بچا جا سکے۔
واقعے کے بعد ایک متاثرہ شہری فوری طور پر تھانہ ہڑپہ پہنچا اور تینوں اہلکاروں کے نام معلوم کر کے ان کے خلاف بدمعاشی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور عوامی حراسانی پر مبنی تحریری شکایت جمع کروا دی۔ شہری کا کہنا ہے کہ اگر اعلیٰ حکام نے بروقت کارروائی نہ کی تو وہ عدالت سے رجوع کرے گا۔
یہ امر قابلِ تشویش ہے کہ ہڑپہ میوزیم، جو سندھ طاس کی عظیم تہذیب کی علامت اور پاکستان کا اہم سیاحتی مقام ہے، آج سیاحوں کے لیے خوف اور بداعتمادی کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ ایسے واقعات نہ صرف ملکی تشخص کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ سیاحت جیسے حساس شعبے کو بھی بری طرح متاثر کرتے ہیں۔
پنجاب پولیس کی ایلیٹ فورس کو دہشت گردی کے خلاف آپریشنز اور وی آئی پی سیکیورٹی جیسے حساس فرائض کے لیے تشکیل دیا گیا تھا، تاہم ماضی میں بھی اس فورس پر اختیارات کے ناجائز استعمال اور عوام سے بدسلوکی کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ناکوں پر شہریوں کی حراسانی اور پیسے بٹورنے کے واقعات پولیس پر عوامی اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچا رہے ہیں۔
تاحال اس واقعے پر پنجاب پولیس یا ایلیٹ فورس کے اعلیٰ حکام کی جانب سے کوئی سرکاری موقف سامنے نہیں آ سکا۔ متاثرین اور مقامی شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر شفاف انکوائری کر کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف سخت محکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، بصورتِ دیگر یہ معاملہ اعلیٰ عدالتوں تک لے جایا جائے گا۔
یہ واقعہ اس سوال کو جنم دے رہا ہے کہ آیا یہ ایک تنہا واقعہ ہے یا ایلیٹ فورس میں پائے جانے والے کسی گہرے نظاماتی بحران کی علامت؟ عوام کی نظریں اب پنجاب پولیس کے اعلیٰ حکام پر لگی ہوئی ہیں
