لیبیا، شام اور افغانستان—یہ تینوں نام آج صرف ممالک نہیں بلکہ تباہ شدہ ریاستوں کی علامت ہیں۔ ان تینوں میں ایک قدرِ مشترک ہے: ریاستی ڈھانچے ...
لیبیا، شام اور افغانستان—یہ تینوں نام آج صرف ممالک نہیں بلکہ تباہ شدہ ریاستوں کی علامت ہیں۔ ان تینوں میں ایک قدرِ مشترک ہے: ریاستی ڈھانچے کو اندر سے توڑنے کے لیے نام نہاد عوامی بغاوتوں کے پردے میں دہشت گرد گروہوں کا استعمال۔ آج ایران اسی آزمائش سے گزارا جا رہا ہے، اور یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ سب اچانک نہیں ہو رہا۔
لیبیا میں معمر قذافی کے خلاف جو جنگ لڑی گئی، وہ کسی عوامی انقلاب کا نتیجہ نہیں تھی۔ باہر سے مسلح گروہ داخل کیے گئے، کھربوں ڈالر جھونکے گئے، جدید اسلحہ فراہم کیا گیا، اور عالمی میڈیا نے ایک ایسا بیانیہ گھڑا جس میں ریاست کی تباہی کو ’’جمہوریت‘‘ کا نام دے دیا گیا۔ آج لیبیا ایک منتشر، غیر مستحکم اور خانہ جنگی کا شکار ملک ہے—اور یہ سب اسی منصوبہ بندی کا منطقی انجام ہے۔
شام میں بھی یہی ماڈل دہرایا گیا۔ جنہیں ’’باغی‘‘ کہا گیا، وہ درحقیقت منظم دہشت گرد نیٹ ورکس تھے۔ خود امریکی عہدیداروں کے بیانات، لیک ہونے والی رپورٹس اور متبادل میڈیا بارہا اس حقیقت کی نشاندہی کرتے رہے کہ ان گروہوں کو فنڈنگ، لاجسٹک سپورٹ اور سیاسی تحفظ فراہم کیا گیا۔ مقصد ایک ہی تھا: ریاست کو اندر سے کھوکھلا کرنا۔
افغانستان میں انہی نیٹ ورکس کو یکجا کیا گیا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے دنیا کو خبردار کیا، مگر مغربی میڈیا نے مکمل خاموشی اختیار کیے رکھی۔ آج حالات خود گواہی دے رہے ہیں: افغانستان میں مشکوک علاقائی سرگرمیاں، بھارت کے دفاعی معاہدے، اور افغان سرزمین سے پاکستان پر ہونے والے حملے—یہ سب ایک ہی تصویر کے مختلف رخ ہیں۔ اب یہی عناصر ایران میں داخل کیے جا چکے ہیں۔
دنیا میں ہنگامہ برپا کرنا مشکل کام نہیں۔ ہر ملک میں سیاسی اختلاف، معاشی دباؤ اور عوامی بے چینی موجود ہوتی ہے۔ امریکہ کی اندھا دھند نوٹ چھاپنے کی پالیسی نے عالمی سطح پر مہنگائی اور غربت کو جنم دیا ہے، جس کا بوجھ دنیا بھر کی حکومتیں اٹھا رہی ہیں۔ جب عوام سڑکوں پر نکلتے ہیں تو پرامن احتجاج میں دانستہ طور پر شرپسند عناصر شامل کر دیے جاتے ہیں، اور یوں احتجاج بدامنی میں بدل جاتا ہے۔ شام میں یہی ہوا، لیبیا میں یہی ہوا—اور اب ایران میں یہی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔
ایران میں احتجاج محدود ہے، مگر عالمی میڈیا ایسا تاثر دے رہا ہے جیسے پورا ملک شعلوں میں گھرا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران جل نہیں رہا، ایران کو جلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ ایک نفسیاتی، معاشی اور سکیورٹی وار ہے، جس کا مقصد ریاستی استحکام کو نشانہ بنانا ہے۔
ان تمام سازشوں کی جڑ ایک ہی ہے: امریکہ کا شدید معاشی بحران۔ اگر وہ جنگیں نہیں چھیڑتا، چین کو کسی بڑی محاذ آرائی میں نہیں الجھاتا، روس اور چین سے ٹکرا کر عالمی نظام کو زبردستی تبدیل نہیں کرتا—تو وہ اپنی معاشی بالادستی برقرار نہیں رکھ سکتا۔ اسی مجبوری نے دنیا کو ایک بار پھر آگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
یہاں پاکستان کے لیے ایک سنجیدہ لمحۂ فکر ہے۔ ایران محض ہمارا پڑوسی نہیں، ایران پاکستان کی فرسٹ لائن آف ڈیفنس ہے۔ اگر ایران عدم استحکام کا شکار ہوتا ہے تو اس کے اثرات براہِ راست پاکستان تک پہنچیں گے—سکیورٹی، معیشت اور خطے کے توازن سب کچھ خطرے میں پڑ جائے گا۔
آج ایران کی حمایت دراصل خطے کے امن، خودمختاری اور مستقبل کی حمایت ہے۔ اگر ہم نے تاریخ سے سبق نہ سیکھا تو لیبیا اور شام کی داستان ایک بار پھر ہمارے دروازے پر دستک دے سکتی ہے۔
