پنجاب میں کینو اور آلو کی قیمتوں میں ہوش ربا گراوٹ نے ایک بار پھر ہمارے زرعی نظام کی بنیادی خرابیاں بے نقاب کر دی ہیں۔ یہ صورتحال ایک تلخ ...
پنجاب میں کینو اور آلو کی قیمتوں میں ہوش ربا گراوٹ نے ایک بار پھر ہمارے زرعی نظام کی بنیادی خرابیاں بے نقاب کر دی ہیں۔ یہ صورتحال ایک تلخ سوال چھوڑتی ہے: کیا ہماری زرعی پالیسیاں واقعتاً کسانوں کے لیے ہیں، یا محض کاغذی کارروائیوں اور خوبصورت نعروں کا مجموعہ ہیں؟
حکومت پنجاب کی جانب سے کینو کے کوڑیوں کے داموں خریدے جانے اور سوشل میڈیا کے ذریعے قیمتیں گرانے والوں کے خلاف نوٹس لینا ایک مثبت اشارہ ضرور ہے۔ مگر، کیا یہ کافی ہے؟ زمینی حقائق اس امید کے برعکس ہیں۔ باغبان اور کسان روزانہ کئی گنا نقصان اٹھا رہے ہیں، جبکہ ایک 36 رکنی زرعی کمیشن کے اجلاس کا انتظار ہے، جو 12 جنوری کو لاہور میں ہونا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب زخم تازہ خون رستے ہوں، تو کیا کئی دن بعد ہونے والی بات چیت مرہم کا کام دے سکے گی؟
کمیشن کی ساخت: کہاں ہیں اصل کسان؟
باغبانوں کا سب سے بڑا تحفظ یہی ہے کہ اس کمیشن میں ان کی اصل نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ کمیشن میں سیاسی شخصیات کی کثرت ہے، مگر وہ لوگ، جن کی محنت، سرمایہ اور مستقبل اس سب سے وابستہ ہے، یعنی خود کسان اور باغبان، ان کی آواز گم ہے۔ ایسے میں، جو فیصلے ہوں گے، وہ زمین کی تلخی، محنت کی تھکاوٹ اور فصل کی بے قراری کو کیسے سمجھ سکیں گے؟ یہ خدشہ بے جا نہیں کہ یہ فیصلے کاغذوں کی حد تک ہی رہیں گے۔
اصل مجرم کون؟ مافیا کا سایہ
صورتحال کی سنگینی اس سے واضح ہوتی ہے کہ کینو باغبانوں سے انتہائی کم قیمت پر خریدا جا رہا ہے، مگر صارفین تک وہی پھل بہت مہنگا پہنچتا ہے۔ یہ فرق کہاں جاتا ہے؟ جواب واضح ہے: وہ درمیانی مافیا، جو برسوں سے منڈیوں پر قابض ہے، ہر فصل کے موسم میں کسان کا خون چوستی ہے۔ یہ نظام نہ کسان کو فائدہ پہنچاتا ہے، نہ صارف کو۔ فائدہ صرف اور صرف چند بیچولے دلالوں اور اجارہ داروں کو ہوتا ہے۔
خطرے کی گھنٹی: آلو کی فصل بھی خطرے میں
مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ باغبان پہلے ہی خبردار کر رہے ہیں کہ یہی کھیل آنے والے دنوں میں آلو کی فصل کے ساتھ دہرایا جا سکتا ہے۔ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ اٹھائے گئے، تو پنجاب کا کسان ایک اور فصل کے تباہ کن نقصان کا سامنا کرے گا، جس کے معاشی اور سماجی نتائج انتہائی خطرناک ہوں گے۔
تبدیلی کا راستہ: اقدامات، نہ صرف اجلاس
سوشل میڈیا پر قیمتیں گرانے والوں کا ڈیٹا جمع کرنا ایک ٹھوس قدم ہے، مگر اصل امتحان اس ڈیٹا کو استعمال کرتے ہوئے ان مجرموں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کا ہے۔ اسے محض فائلوں کا حصہ نہیں بننے دینا چاہیے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت روایتی کمیشن بندی اور طویل مدتی منصوبہ بندی سے آگے بڑھ کر فوری اقدامات کرے:
1. فوری ریلیف: کینو کے لیے فوری سپورٹ پرائس کا اعلان اور اس پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
2. شفاف منڈی نظام: منڈیوں میں دلالوں کے اجارہ داری کے خاتمے کے لیے سخت قوانین بنائے جائیں اور براہِ راست خریداری کے نظام کو فروغ دیا جائے۔
3. حقیقی نمائندگی: کسانوں اور باغبانوں کے حقیقی نمائندوں کو فیصلہ سازی کے ہر مرحلے میں لازمی طور پر شامل کیا جائے۔
4. مستقل پالیسی: ایک ایسی جامع زرعی پالیسی بنائی جائے جو صرف بحران کے وقت نہیں، بلکہ مستقل بنیادوں پر کسانوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
کسانوں کی سوشل میڈیا پر اپیل محض اپیل نہیں؛ یہ ایک چیخ ہے، ایک آخری استغاثہ ہے کہ ان کی محنت اور قربانی کو کوڑیوں کے مول نہ بیچا جائے۔ یہ چیخ صرف حکومت ہی نہیں، پوری قوم کے ضمیر کے لیے ایک آزمائش ہے۔ اگر اس بار بھی یہ آواز سنی ان سنی رہ گئی، تو نہ صرف کسان کا اعتماد ختم ہو جائے گا، بلکہ ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کہلانے والا یہ شعبہ مزید کمزور ہو جائے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ کاغذی کارروائیوں سے نکل کر زمین پر اترا جائے اور کسان کی اس فریاد کو سنا جائے
