Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

اہم خبریں

latest

ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال میگا کرپشن سکینڈل

9 ارب خرچ ہونے کے باوجود منصوبہ نامکمل، 12 افسران کے گرد گھیرا تنگ وزیر اعلیٰ کی 'زیرو ٹالرنس' پالیسی: کرپشن کے مرتکب افسران کو نشان...




9 ارب خرچ ہونے کے باوجود منصوبہ نامکمل، 12 افسران کے گرد گھیرا تنگ
وزیر اعلیٰ کی 'زیرو ٹالرنس' پالیسی: کرپشن کے مرتکب افسران کو نشانِ عبرت بنانے کا فیصلہ، کابینہ نے سخت ایکشن کی منظوری دے دی
ساہیوال (خصوصی رپورٹ/افتخار احمد چوہدری)
ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال کی تعمیر و مرمت اور لانڈری پراجیکٹ میں 3 ارب روپے سے زائد کی خطیر رقم کے خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔ سراغ رساں اداروں کی رپورٹ پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے سخت نوٹس لیتے ہوئے ملوث 12 افسران اور ٹھیکیداروں کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔ صوبائی کابینہ نے انکوائری رپورٹ کی روشنی میں ذمہ داران کی گرفتاریوں اور ریکوری کے لیے گرین سگنل دے دیا ہے، جس کے بعد محکمہ صحت اور انتظامی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔
منصوبے کی لاگت میں ہوشربا اضافہ
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق
 تاریخی تاخیر: یہ منصوبہ 2016 میں شروع کیا گیا تھا جسے 2025 تک مکمل ہونا تھا، مگر نو سال گزرنے کے باوجود تاحال ادھورا ہے۔
  بجٹ کا بے جا استعمال: 3 ارب 58 کروڑ روپے کے اصل تخمینے والے منصوبے پر اب تک 9 ارب 31 کروڑ روپے کے اخراجات دکھائے جا چکے ہیں، جو کہ اصل لاگت سے کہیں زیادہ ہیں۔
  ناقص مٹیریل: بلڈنگ کی تعمیر میں اس قدر ناقص مٹیریل استعمال کیا گیا ہے کہ نئی عمارت ابھی سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور روزانہ کی بنیاد پر مرمت کے نام پر مزید فنڈز ہضم کیے جا رہے ہیں۔
لانڈری سکینڈل اور عوامی نمائندوں کا کردار
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں رکن صوبائی اسمبلی ملک قاسم ندیم کی جانب سے معاملہ اٹھائے جانے پر معلوم ہوا کہ لانڈری پراجیکٹ، جس کی لاگت 46 ملین روپے تھی، اس پر 143 ملین روپے خرچ کر دیے گئے۔ اس قدر بھاری رقم لگنے کے باوجود لانڈری آج تک فعال نہ ہو سکی۔ انکوائری کمیٹی نے اگرچہ ابتدائی طور پر معاملے کو 120 ملین تک محدود دکھانے کی کوشش کی، مگر زمینی حقائق نے کرپشن کا پول کھول دیا۔
> "وزیر اعلیٰ نے تمام معاملات براہِ راست اپنی تحویل میں لے لیے ہیں۔ اب کسی بھی کرپٹ افسر یا ٹھیکیدار کو رعایت نہیں ملے گی۔ یہ عوام کا پیسہ ہے اور ایک ایک پائی کا حساب لیا جائے گا۔" — حکومتی ترجمان
وزیر اعلیٰ کی براہِ راست نگرانی
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب خود اس کیس کی مانیٹرنگ کر رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ یہ ساہیوال کی تاریخ کا سب سے بڑا مالیاتی سکینڈل ہے اور وہ خود افسران کی گرفتاریوں اور دیگر تادیبی اقدامات کی نگرانی کریں گی۔ آنے والے چند روز میں محکمہ صحت اور بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ کے کئی ہائی پروفائل افسران کی گرفتاریوں کا قوی امکان ہے۔