وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کی زیر صدارت سرکاری ہسپتالوں کے نظام سے متعلق حالیہ فیصلے بظاہر ایک جامع اصلاحاتی پیکیج کی صورت سامن...
وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کی زیر صدارت سرکاری ہسپتالوں کے نظام سے متعلق حالیہ فیصلے بظاہر ایک جامع اصلاحاتی پیکیج کی صورت سامنے آئے ہیں۔ یہ فیصلے اگر عملی شکل اختیار کر لیں تو بلاشبہ صوبے کے لاکھوں مریضوں کے لیے امید کی نئی کرن ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم ماضی کے تجربات ہمیں یہ سوال اٹھانے پر مجبور کرتے ہیں کہ کیا یہ اقدامات محض اعلانات تک محدود رہیں گے یا واقعی عوام کو ان کا فائدہ ملے گا؟
وزیراعلیٰ نے سرکاری ہسپتالوں کے لیے نئی اور جدید ادویات کی فہرست مرتب کرنے اور اس مقصد کے لیے خصوصی کمیٹی بنانے کا حکم دیا ہے۔ یہ ایک خوش آئند قدم ہے، کیونکہ اکثر سرکاری ہسپتالوں میں پرانی، غیر مؤثر یا نایاب ادویات کی کمی مریضوں کے لیے اذیت کا باعث بنتی رہی ہے۔ اگر یہ کمیٹی میرٹ، شفافیت اور جدید طبی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کام کرے تو علاج معالجے کے معیار میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔
اسی طرح دورانِ ڈیوٹی ڈاکٹرز اور نرسز کے موبائل فون کے استعمال پر پابندی کے فیصلے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ بلاشبہ مریض اکثر شکایت کرتے ہیں کہ عملہ موبائل فون میں مصروف رہتا ہے اور توجہ علاج کے بجائے اسکرین پر ہوتی ہے۔ تاہم یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ اس پابندی پر عملدرآمد کیسے یقینی بنایا جائے گا اور ایمرجنسی یا ضروری رابطے کی صورت میں کیا لائحہ عمل ہوگا۔
ہسپتالوں میں سیکیورٹی گارڈز، وارڈ بوائز، نرسوں اور فارمیسی اسٹاف کو باڈی کیمرے لگانے کا اصولی فیصلہ ایک جرات مندانہ قدم ہے۔ اس سے نہ صرف بدانتظامی، بدسلوکی اور بدعنوانی پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ مریضوں اور ان کے لواحقین کی شکایات کی جانچ بھی آسان ہو گی۔ تاہم اس فیصلے پر عملدرآمد کے لیے واضح قوانین، ڈیٹا کے تحفظ اور پرائیویسی کے معاملات کو بھی سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا۔
وزیراعلیٰ کا ہر سرکاری ہسپتال میں روزانہ صبح 9 بجے تک مکمل سٹیم کلیننگ کا حکم صفائی کے حوالے سے ایک انقلابی اعلان کہا جا سکتا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں کی بدترین صفائی، گندگی اور جراثیم مریضوں کے لیے اکثر نئی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔ اگر یہ حکم واقعی روزانہ کی بنیاد پر نافذ ہو جائے تو انفیکشن کے پھیلاؤ میں واضح کمی ممکن ہے۔
ہسپتالوں میں تعینات سیکیورٹی کمپنیوں اور گارڈز کے خلاف عوامی شکایات کا سخت نوٹس لینا بھی ایک اہم پیش رفت ہے۔ مریضوں کے لواحقین کے ساتھ بدتمیزی، غیر ضروری رکاوٹیں اور اختیارات کا غلط استعمال ایک عام شکایت رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس نوٹس کے بعد کتنی کمپنیوں کا احتساب ہوتا ہے اور کتنے چہروں کو واقعی بدلا جاتا ہے۔
پنجاب میں ایم ایس پول کے قیام اور صرف پرفارمنس کی بنیاد پر تنخواہوں میں اضافے کا فیصلہ بظاہر ادارہ جاتی اصلاحات کی طرف ایک قدم ہے۔ اگر ایم ایس حضرات کو سیاسی دباؤ سے آزاد کر کے کارکردگی کی بنیاد پر پرکھا گیا تو ہسپتالوں کے انتظامی ڈھانچے میں بہتری آ سکتی ہے۔
مختصر یہ کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے یہ فیصلے کاغذ پر تو نہایت متاثر کن ہیں۔ اصل امتحان اب ان پر عملدرآمد کا ہے۔ عوام کو اب اعلانات نہیں، عملی تبدیلی درکار ہے۔ اگر یہ فیصلے فائلوں سے نکل کر وارڈز، او پی ڈیز اور ایمرجنسی رومز تک پہنچ گئے تو یہ حکومت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہوگی، ورنہ یہ بھی ماضی کے کئی وعدوں کی طرح خبروں کی زینت بن کر رہ جائیں گے۔
