Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

اہم خبریں

latest

کابل کے قریب ڈرون کا گرنا: خاموش بیانات، گہری حکمتِ عملی

  افغانستان کے دارالحکومت کابل کے نواح میں ایک امریکی ساختہ فوجی ڈرون کے گرنے کا واقعہ بظاہر ایک معمولی تکنیکی حادثہ محسوس ہو سکتا ہے، مگر ا...

 



افغانستان کے دارالحکومت کابل کے نواح میں ایک امریکی ساختہ فوجی ڈرون کے گرنے کا واقعہ بظاہر ایک معمولی تکنیکی حادثہ محسوس ہو سکتا ہے، مگر اس کے پس منظر میں چھپی خاموشی بہت کچھ کہہ رہی ہے۔ طالبان کی جانب سے بی بی سی کو اس بات کی تصدیق اور پینٹاگون کا روایتی مگر معنی خیز جملہ — “ہمارے پاس اس پر کہنے کو کچھ نہیں” — دراصل اسی خاموش حکمتِ عملی کا حصہ دکھائی دیتا ہے جو برسوں سے افغان سرزمین پر آزمائی جا رہی ہے۔

افغانستان سے باضابطہ امریکی انخلا کے بعد یہ تاثر دیا گیا تھا کہ واشنگٹن نے عسکری موجودگی کا باب بند کر دیا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ جنگیں اب بوٹس اور بریگیڈز سے نہیں بلکہ سیٹلائٹس، ڈرونز اور خفیہ انٹیلی جنس سے لڑی جا رہی ہیں۔ کابل کے قریب گرنے والا ڈرون اسی “اوور دی ہورائزن” حکمتِ عملی کی یاد دہانی ہے، جس کے تحت امریکہ افغانستان میں براہِ راست موجودگی کے بغیر نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے۔

طالبان کے لیے یہ واقعہ دوہری نوعیت کا ہے۔ ایک طرف وہ خود کو ایک خودمختار ریاست کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں، جہاں فضائی حدود پر مکمل کنٹرول ہو، تو دوسری جانب وہ عالمی طاقتوں کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی سے بھی گریزاں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ طالبان نے تصدیق تو کی، مگر تفصیلات سے خاموشی اختیار کی۔ یہ خاموشی کمزوری نہیں بلکہ سیاسی احتیاط کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔

پینٹاگون کا ردعمل — یا یوں کہیے ردعمل کا فقدان — دراصل امریکی پالیسی کا پرانا ہتھیار ہے۔ نہ تصدیق، نہ تردید۔ اس مبہم انداز کے ذریعے امریکہ نہ صرف اپنے انٹیلی جنس نیٹ ورک کو محفوظ رکھتا ہے بلکہ مخالفین کو غیر یقینی کی کیفیت میں بھی مبتلا رکھتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ڈرون گرا یا کیوں گرا، اصل سوال یہ ہے کہ وہ وہاں کر کیا رہا تھا؟

خطے کے ماہرین کے مطابق افغانستان اب بھی داعش خراسان، القاعدہ کے باقیات اور دیگر شدت پسند گروہوں کے حوالے سے عالمی طاقتوں کی نظر میں ایک حساس علاقہ ہے۔ ایسے میں ڈرون نگرانی کا جاری رہنا حیران کن نہیں، البتہ کابل جیسے حساس علاقے کے قریب ڈرون کا گرنا اس نگرانی کے دائرۂ کار پر سوال ضرور اٹھاتا ہے۔


یہ واقعہ طالبان حکومت کے لیے ایک امتحان بھی ہے۔ اگر وہ خاموش رہتے ہیں تو اندرونی سطح پر کمزوری کا تاثر جنم لے سکتا ہے، اور اگر سخت مؤقف اختیار کرتے ہیں تو عالمی تنہائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب امریکہ کے لیے بھی یہ پیغام ہے کہ افغانستان اب وہ “اوپن ایئر اسپیس” نہیں رہا جہاں ہر کارروائی بلا ردعمل کی جا سکے۔

آخرکار کابل کے قریب گرنے والا ڈرون محض ایک مشین نہیں، بلکہ یہ ایک علامت ہے — طاقت کی سیاست، خفیہ جنگ اور بدلتے ہوئے عالمی عسکری تصورات کی۔ اصل معرکہ بیانات میں نہیں، بلکہ خاموش فضاؤں میں جاری ہے، جہاں ہر اڑان ایک پیغام اور ہر خاموشی ایک حکمتِ عملی ہوتی ہے